بمقابلہ قبول قبول کریں
 

قبول اور تسلیم کرنا دو الفاظ ہیں جو اکثر الجھن میں پڑتے ہیں جیسے الفاظ ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ دراصل وہ دو الفاظ ہیں جو دو مختلف معنی کو جنم دیتے ہیں۔ لفظ "قبول کریں" استعمال کرنے کے معنی میں ہیں "غور و فکر" جیسے جملے میں "میں اس صورتحال کو قبول کرتا ہوں"۔ اس جملے میں لفظ "قبول کریں" کا استعمال '' ذہن میں رکھنا '' کے معنی میں ہے اور لہذا اس جملے کا معنی ہوگا 'میں اس صورتحال کو مدنظر رکھتا ہوں'۔

دوسری طرف لفظ "تسلیم کریں" "ہتھیار ڈالنے" کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہے جیسا کہ اس جملے میں ہے ‘جس شخص نے جرم کیا ہے‘۔ یہاں لفظ ’’ اعتراف ‘‘ کے استعمال سے فرد کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی نیت کو جنم ملتا ہے۔ یہ دونوں الفاظ 'قبول کریں' اور 'تسلیم کریں' کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

لفظ "قبول کریں" کا مطلب ہے "وصول کرنے پر راضی ہوں" جیسے جملے میں ‘اس نے پیش کش قبول کرلی’۔ اس جملے میں لفظ "قبول کریں" کے استعمال سے "موصول ہونے پر راضی ہوجاتا ہے" اور اس جملے کا معنی ہوگا "وہ پیش کش وصول کرنے پر راضی ہوگیا"۔

دوسری طرف "اعتراف" لفظ "اجازت" کا اضافی احساس دیتا ہے جیسا کہ جملے میں ہے "گیٹ کیپر نے اسے کالج کے احاطے میں داخل ہونے کا اعتراف کیا"۔ یہاں لفظ ’’ تسلیم کریں ‘‘ کے استعمال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس جملے کا مطلب ہوتا ہے ‘گیٹ کیپر نے اسے کالج کے احاطے میں داخل ہونے دیا’۔

لفظ "ایڈمیٹ" بعض اوقات "داخلے حاصل کرنے" کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے جملے میں "اسے گذشتہ رات اسپتال میں داخل کیا گیا تھا"۔ یہاں 'داخلہ' کے لفظ 'داخلے' کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس جملے کا مطلب ہوتا ہے کہ ‘اسے گذشتہ رات اسپتال میں داخلہ ملا تھا’۔ یہ دونوں الفاظ کے مابین اختلافات ہیں ، یعنی قبول اور تسلیم کریں۔